اُڈپی 15/فروری (ایس او نیوز) ضلع کے کارکلا میں ایک سیاحوں سے بھری پرائیویٹ بس سڑک حادثے کا شکار ہوگئی جس میں نو افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 24 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں شدید زخمی ہونے والوں کو منی پال اسپتال اور دیگر کو کارکلا سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔حادثہ سنیچر کی شام 5:35 بجے پیش آیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پرائیویٹ کمپنی کی ٹورسٹ بس میسور سے ایک کمپنی کے ملازمین کو لے کر سیاحت کے لئے مینگلور آرہی تھی۔ اُڈپی۔چکمنگلور گھاٹ پر مُلنور کے مقام پر بس ڈرائیور کے ہاتھوں بے قابو ہوگئی اور ایک خطرناک موڑ پر بس سڑک کنارے واقع پہاڑی چٹان سے ٹکراگئی۔ مرنے والوں میں بس ڈرائیور اور بس کلینر بھی شامل ہیں جن کی شناخت اُمیش اور بسوراج کی حیثیت سے کی گئی ہے۔دیگر مہلوکین کی شناخت انگنا، رنجیتا، رادھا روی، یوگیندر، پریتم گوڈا، بسواراجو اور شارول کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ جن کی عمریں 21 سے 23 سال کے درمیان ہیں۔ یہ سبھی میسور کی ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھے اور سنیچر اتوار چھٹی ہونے کی بنا پر ساحلی کرناٹکا کی سیر کے لئے نکلے تھے۔
ایک ذرائع نے خبر دی ہے کہ جب بس گھاٹ کے آڑی ترچی سڑک پر سے گذررہی تھی تو اچانک بس کی ڈکی کا دروازہ کھل گیا اور پیچھے سے لگیج گرنے لگا، جسے دیکھ کر بس کےایک مسافر نے چینخ ماری کہ سامان نیچے گررہا ہے، چینخ سن کر جیسے ہی ڈرائیور نے پیچھے مُڑ کر دیکھا، ڈرائیور کا دھیان ہٹتے ہی بس تیزرفتاری کے ساتھ پہاڑ کی چٹان سے ٹکراگئی۔
حادثے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹکر لگتے ہی چھ لوگوں کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جبکہ دیگر تین لوگوں نے اسپتال لے جانے کے دوران راستے میں دم توڑ دیا۔مرنے والوں میں چھ مرد اور تین خواتین ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی بھی بعض کی حالت نہایت نازک ہے۔ حادثے میں بس کے بھی پرخچے اُڑ گئے ہیں۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی اُڈپی ایس پی وشنو وردھن اپنے عملہ کے ساتھ جائے واردات پر پہنچ گئے اور ایمبولنس کی مدد سے تمام زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچایا۔ اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حادثے میں نو لوگوں کے مرنے کی تصدیق کی اور بتایا کہ بس پر جملہ 35 لوگ سوار تھے۔انہوں نے بتایا کہ آٹھ شدید طور پر زخمیوں کو منی پال اسپتال شفٹ کیا گیا ہے جس میں سے چار کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔
نعشوں کو پوسٹ مارٹم کے لئے کارکلا سرکاری اسپتال کے مردہ خانے میں رکھا گیا ہے۔